ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / دہلی کے ’قوت الاسلام‘ مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے عدالت میں داخل کی گئی عرضی، متعلقہ جگہ پر پہلے مندر ہونے کا دعویٰ

دہلی کے ’قوت الاسلام‘ مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے عدالت میں داخل کی گئی عرضی، متعلقہ جگہ پر پہلے مندر ہونے کا دعویٰ

Wed, 09 Dec 2020 10:52:11    S.O. News Service

نئی دہلی ؍ 9؍دسمبر(ایس او  نیوز/ایجینسیز)دہلی کے قطب مینار احاطے میں واقع مسجد قوت الاسلام پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ  مسجد  27 ہندو اور جین مندروں کو منہدم کرنے کے بعد تعمیرکی گئی ہے۔ لہٰذا وہاں توڑے گئے مندروں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے اور وہاں 27 دیوی دیوتاوں کی پوجا کرنے کا حق دیاجائے۔

 قومی آواز کی رپورٹ کے مطابق  یہ دعویٰ دہلی کے  ساکیت کورٹ میں ہری شنکر جین کی طرف سے  داخل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق  اس معاملے کو لے کر دہلی کی ساکیت عدالت نے منگل کے روز تقریباً ایک گھنٹہ تک سماعت کی۔ سیول جج نے کہا کہ عرضی کافی طویل ہے اور اس میں دئے گئے حقائق پر مطالعہ کی ضرورت ہے۔ عدالت نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 24 دسمبر کو طے کر دی ہے۔

عدالت میں اپنی عرضی کو پیش کرتے ہوئے عرضی گزار نے بتایا کہ ’’محمد غوری کے غلام قطب الدین نے دہلی میں قدم رکھتے ہی ان 27 مندروں کو توڑنے کا حکم دیا۔ جلد بازی میں مندروں کو توڑ کر بچے سامان سے مسجد بنا دی گئی۔ پھر اس مسجد کو قوت الاسلام نام دے دیا گیا۔ اس کی تعمیر کا مقصد عبادت سے زیادہ مقامی ہندووں اور جین طبقہ کے لوگوں کے جذبات کو مجروح کرنا اور اسلام کی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔‘‘

عرضی گزار کا کہنا ہے کہ مسجد کی تعمیر 1192 میں ہوئی لیکن مسلمانوں نے یہاں کبھی نماز ادا نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسجد مندر کی باقیات سے تعمیر کی گئی ہے اور اس میں ہندو دیوی دیتاؤن کی مورتیاں لگی تھیں، آج بھی ہندو مذہب سے وابستہ ان مورتوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ عمارت کے بارے میں پوری معلومات ہونے کے بعد بھی حکومت نے ہندو اور جین طبقہ کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔ جبکہ مسلم طبقہ نے اس جگہ کا کبھی مذہبی استعمال نہیں کیا۔ اس کے علاوہ یہ وقف کی ملکیت بھی نہیں ہے۔ اس لئے ان کا کوئی دعوی نہیں بنتا۔ فی الحال یہ جگہ حکومت کے قبضہ میں ہے۔ عرضی گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسجد کو 27 مندروں کی از سر نو تعمیر کے لئے ہندو طبقہ دیا جانا چاہئے۔


Share: